Thursday, August 18, 2016

"The Beloved is near, come here. You have visited that house a hundred times, Come and visit this house (heart), if only once.”

Wednesday, August 17, 2016

Hazrat Wasif Ali Wasif(R.A) Quotes


is messages are easy to understand and simple to act upon. A brief selection of his famous quotes is presented below:
  • Belief in God, without belief in the Prophet (SAWW), would still be unbelief.
  • When the eye becomes the heart, the heart becomes the eye.
  • The world is ancient, but it has not lost its newness.
  • A man is happy who is happy with his Naseeb.
  • Do not destroy anybody’s peace. You will find peace.
  • Democracy is the name of the period between two martial laws.
  • Remove the conflict between your desires and your duties, peace will come.
  • When the child is ill, the mother will know how to pray.
  • Investigation after declaration of submission leads astray.
  • Death is the protector of life and life is the process of death.
  • Life is not only Newton, it is also Milton.
  • He who has no light in his heart, what will he gain from the festival of lamps.
  • A more fearful thing than death is the fear of death.
  • Students are the real inheritors of country.
  • The period before the dawn of knowledge is called the age of darkness.
  • Man neither loses nor gains in this world. He just comes here and departs.
  • When Allah accepts repentance for sin, He wipes out the very memory of sin.
  • One who has no beloved in the country can never love the country.
  • He who is drowned in sin, is devoid of faith in prayer.

Tuesday, August 16, 2016

Mulaqat - with Ashfaq Ahmed and Bano Qudsia

تصوف ،،
تصوف ایک نفسانی علم ھے جس کا کسی بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ھے ، نہ صرف یہ کہ ھندو ،سکھ ، عیسائی ، یہودی بھی اس کی مشقوں سے ویسے نتائج دے سکتے ھیں جیسے مسلمان دعوی کرتے ھیں بلکہ خدا پر ایمان نہ رکھنے والا ملحد بھی بالکل ویسے ھی عالم رؤیاء کا سفر کر سکتا ھے ،جیسے خدا پر ایمان رکھنے والے کرتے ھیں ،، عیسائیت کی گود میں صدیوں افیم کھانے والی عیسائیت کا گڑھ بغداد جو رومن ایمائیر کے تابع رھا ھے اسلام میں اس پودے کو لگانے کا ذمہ دار ھے ، جزیرۃ العرب نے کوئی صوفی پیدا نہیں کیا ،،
اس کے سلسلوں کو جھوٹی روایتوں کے ذریعے دو صحابہ کرام یعنی خلیفہ راشد ابوبکر صدیقؓ اور خلیفہ راشد حضرت علیؓ تک پہنچانے والے دو چیزیں ثابت کرتے ھیں اور دونوں ھی غلط ھیں ، اول یہ کہ نبئ کریم ﷺ نے دین کی روح اور مغز باقی تمام صحابہؓ سے چھپا کر صرف دو صحابہؓ کو بذریعہ باطن عطا فرمایا ،،،
دوسری بات یہ کہ 23 سال کی محنت شاقہ کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنے صرف دو خلیفہ مجاز یا تصوف میں اپنے دو ھی مرید چھوڑ کر تشریف لے گئے ،،، جبکہ قرآن کسی بھی علم باطن کی نفی کرتا ھے اور رسول ﷺ کو دین کی یکساں تعلیم و تبلیغ کا حکم دیتا ھے اور ایچ پیچ کی بجائے قولاً سدیدا کی تلقین کرتا ھے ،، گویا دین پہنچانا جب تمام صحابہؓ کی ذمہ داری تھی ، فانما علیہ ما حمل و علیکم ما حملتم ،، ان ﷺ کے ذمے وہ ھے جو ان کو اٹھوایا گیا ھے اور تمہارے ذمے وہ ھے جو تم کو اٹھوایا گیا ھے اور اگر تم ان ﷺ کی اطاعت کرو گے تو ھدایت پا جاؤ گے اور ھمارے رسول ﷺ کے ذمے کھول کر بیان کر دینا ھے ( نہ کہ سینہ بسینہ باطنی تعلیم دینا )
(( قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ( النور-54)
فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشركين ( الحجر-94 )
اے نبیﷺ کھل کر اعلانیہ کہیئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ھے اور مشرکین سے اعراض فرمایئے ،،
دین میں نبی ﷺ پر اقرباء پروری کا کا الزام رکھنا کہ آپ نے دین میں دو ایسے مرید بنا رکھے تھے جن کو اندر کی بات بتاتے تھے اور دین کا مغز ان کو کھلاتے تھے جبکہ باقی کو دین کا چھلکا کھلاتے تھے اور قرآن کے نام پر ظاھری الفاظ پڑھا دیتے تھے جبکہ ان کا اصل مدعا و مقصد صرف دو صحابہؓ کو خفیہ طور پر بتاتے تھے ،، یہ نیکی نہیں بدی کا سر چشمہ ھے ،، نبی کریم ﷺ کو کسی باطنی تحریک کا موجد و سرغنہ بنا دینا نبئ کریم ﷺ کی توھین ھے نہ کہ توصیف ،،
علم تصوف کے لطائف تمام متصوفین میں یکساں ھیں چاھے ان کا تعلق کسی بھی مذھب سے ھو ،، ان کا لباس و ھیئت بھی یکساں ھوتی ھے اور تپسیا یا مجاھدے کا انداز بھی ملتا چلتا ،مالا یا تسبیح گلے میں ڈالے گئے بڑے بڑے منگے اور ھاتھوں کے کڑے ، رنگ برنگی انگوٹھیوں سے بھرے ھاتھ ،، "تیری صبح کہہ رھی ھے تیری رات کا فسانہ " کے مصداق بتا دیتے ھیں کہ یہ پودا کہاں کا ھے نبئ کریم ﷺ یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ان میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ھے ، لوگوں پر مشابہت کے نام پر لعنت کرنے والے کبھی اس مشابہت کی طرف بھی توجہ فرمائیں گے ،،
ذرا ان ھندو رشیوں اور یوگیوں کی صحبت میں ایک گھنٹہ بیٹھ کر دیکھئے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ تصوف کہاں سے آیا ھے ،وھی آسن ، وھی پاس انفاس ، وھی حبسِ دم اور وھی لطیفے ،، یقین کریں مسلمانوں کی نماز میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جتنی اس یوگ اور تصوف میں پائی جاتی ھے ،،

Friday, August 5, 2016

محبت ایسا دریا ہے 
کہ بارش روٹھ بھی جائے 
تو پانی کم نہیں ہوتا

Love is such a river
even if the rain is upset
but it never dries